پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی مبینہ جبری شادیوں اور مذہبی تبدیلی کا بھوت
پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مذہبی اقلیتوں خصوصاً عیسائی اور ہندو لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے انہیں جبراً اسلام قبول کروایا جاتا ہے اور پھر ان کی شادی مسلم مردوں سے کر دی جاتی ہے۔ یہ دعویٰ انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں پیش کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اسے بڑی توجہ دی گئی ہے تاہم اس اہم مسئلے پر اب تک کوئی جامع اور متوازن صحافتی تحقیق پیش نہیں کی گئی تھی چنانچہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ایک طویل اور گہری صحافتی تحقیق کی گئی جس میں پاکستان کے صنعتی شہر فیصل آباد کو مرکز بنایا گیا یہ تحقیق اپریل دو ہزار تئیس سے اپریل دو ہزار چھبیس کے درمیان کی گئی اور اس میں پچاس عیسائی اور پچپن مسلم گھرانوں کے درج کروائے گئے مقدمات تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔تحقیق کا طریقہ کار انتہائی جامع اور سائنسی رکھا گیا سب سے پہلے درج مقدمات کو دیکھا گیا اور پھر ان تمام خاندانوں میں لڑکیوں کے والدین سے ملاقات کی گئی اور ان کی درج کردہ رپورٹس کا باریک بینی سے مطالعہ کیا گیا اس کے بعد انہی کیسز میں ملوث لڑکوں کے والدین سے ملاقاتیں کی گئیں اور ان کا موقف بھی لیا گیا پھر تحقیق کا دائرہ مزید وسیع کیا گیا اور ان لڑکیوں کے تعلیمی اداروں یعنی کالجوں اور سکولوں میں جا کر ان کی سہیلیوں اور لڑکوں کے دوستوں سے ملاقاتیں کی گئیں اور ان کو بھی سنا گیا۔ اس طویل اور محنت طلب تحقیق کے بعد جو حقیقت سامنے آئی وہ انتہائی حیران کن ہے مجموعی طور پر ان ایک سو پانچ خاندانوں میں سے کسی بھی کیس میں جبری شادی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ہر کیس میں یہی پایا گیا کہ لڑکی اور لڑکے کے درمیان پہلے سے رضامندی پر مبنی تعلق تھا اور انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے شادی کی تھی یہ وہی شادیاں تھیں جن کے بارے میں والدین نے اغوا اورچوری کے مقدمات درج کروائے تھے اور اقلیت کی طرف سےجبری تبدیلی مذہب کا الزام لگایا تھا۔ تحقیق میں یہ بھی حیران کن حقیقت سامنے آئی کہ مسلم گھرانوں کی بھاگی ہوئی لڑکیوں کے والدین نے بھی عین اسی نوعیت کے مقدمات درج کروائے تھے ان مقدمات میں اغوا کے الزامات کے ساتھ ساتھ گھر سے سامان زیورات اور نقدی چوری کرنے کے الزامات بھی شامل تھے ۔ اس سے یہ واضح ہو گیا کہ والدین اپنی مرضی سے بھاگ کر شادی کرنے والی بیٹی کو واپس لانے کے لیے اغوا کے جھوٹے مقدمات درج کرواتے ہیں اور یہ رجحان صرف عیسائی گھرانوں تک محدود نہیں بلکہ مسلم گھرانوں میں بھی یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عیسائی والدین کے پاس ایک اضافی ہتھیار ہوتا ہے جبری تبدیلی مذہب کا الزام جو ان کی رپورٹ کو بین الاقوامی سطح پر اہمیت دلا دیتا ہے جبکہ مسلم والدین صرف اغوا کا الزام لگا سکتے ہیں یا چوری کا ۔ یہ وہ بنیادی حقیقت ہے جسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے اپنی رپورٹس میں مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے ۔ان تنظیموں نے کبھی بھی اس طرح کی جامع اور متوازن تحقیق نہیں کی جس میں دونوں فریقین کے بیانات اور گواہوں کی گواہیوں کو شامل کیا گیا ہو اب ہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ان کی رپورٹس کی بنیاد کتنی مضبوط ہے انسانی حقوق کی تنظیموں کا معمول یہ ہے کہ وہ صرف لڑکی کے والدین سے ملتی ہیں اور ان کی یک طرفہ شکایت کو بغیر کسی ثبوت کے حقیقت مان کر اپنی رپورٹ کا حصہ بنا لیتی ہیں وہ لڑکے کے والدین سے ملاقات کرنا ضروری نہیں سمجھتیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ لڑکے کا خاندان طاقتور ہے اور ان سے ملاقات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ وہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جا کر لڑکیوں کی سہیلیوں یا لڑکوں کے دوستوں سے بات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی رپورٹس میں صرف ایک فریق کا نقطہ نظر پیش کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے فریق کو کبھی سنا ہی نہیں جاتا اگر یہی طریقہ کار مسلم گھرانوں کی لڑکیوں کے کیسز پر لاگو کیا جائے تو وہاں بھی وہی نتیجہ نکلے گا کیونکہ مسلم والدین بھی اپنی بھاگی ہوئی بیٹی کو واپس لانے کے لیے اغوا کے جھوٹے مقدمات درج کرواتے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں اس ملتے جلتے ایشو کو مکمل طور پر نظر انداز کرتی ہیں کیونکہ ان کا ایجنڈا صرف اقلیتی لڑکیوں تک محدود ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ تنظیمیں ایسا کیوں کرتی ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کا پورا وجود ایک مخصوص ایجنڈے پر منحصر ہے انہیں بین الاقوامی فنڈنگ انہی شرائط پر ملتی ہے کہ وہ مسلم ممالک خاص طور پر پاکستان کے خلاف منفی رپورٹس پیش کریں۔ جبری شادیوں اور جبری تبدیلی مذہب کا نریٹو ان کے لیے انتہائی مفید ہے کیونکہ اس کے ذریعے وہ فنڈنگ حاصل کر سکتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنا سکتے ہیں۔ اگر کوئی تنظیم یہ رپورٹ کرے کہ پاکستان میں جبری شادیوں کا مسئلہ بہت معمولی ہے یا زیادہ تر رپورٹس جھوٹی ہیں تو اگلے سال اسے فنڈ نہیں ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیمیں حقیقت سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتیں بلکہ انہیں اپنا ایجنڈا چلانا ہے اور اس ایجنڈے کے لیے ضروری ہے کہ جبری شادیوں کا بھوت بنا کر رکھا جائے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے دنیا بھر میں بہت سی انسانی حقوق کی تنظیمیں فنڈنگ کے حصول کے لیے اپنی رپورٹس میں مبالغہ آرائی کرتی ہیں اور پاکستان کے خلاف اس طرح کی رپورٹس کا ایک طویل سلسلہ چلا آ رہا ہے ۔ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ حکومت پاکستان کا اپنا کردار اس سلسلے میں کیا ہے کیونکہ حکومتی اعداد و شمار بھی انہی والدین کی یک طرفہ رپورٹس پر مبنی ہوتے ہیں ۔نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ جیسی سرکاری تنظیمیں بھی جب اعداد و شمار جاری کرتی ہیں تو وہ انہی شکایات پر انحصار کرتی ہیں جن کی اصل حیثیت کبھی میدان میں جا کر ثابت نہیں کی جاتی ۔کوئی بھی سرکاری ادارہ اس طرح کی مکمل اور متوازن تحقیق نہیں کرتا جس طرح اس صحافتی تحقیقات میں کی گئی ۔حکومت بھی وہی ڈیٹا فراہم کر دیتی ہے جو اسے والدین کی رپورٹس کی صورت میں ملتا ہے لیکن وہ اس ڈیٹا کو حقیقت سے پرکھنے کی زحمت نہیں کرتی یہی وجہ ہے کہ اصل صورت حال کچھ اور ہے اور پیش کی جانے والی صورت حال کچھ اور۔ یہیں سے عدلیہ کا کردار بھی سامنے آتا ہے کیونکہ جب یہ مقدمات عدالتوں میں جاتے ہیں تو عدلیہ بھی اکثر الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔ کچھ حالیہ مثالوں میں عدالتوں نے این اے ڈی آر اے کے سرکاری برتھ سرٹیفکیٹ کو بھی مسترد کر دیا ہے اور لڑکی کی عمر معلوم کرنے کے لیے آسیفیکیشن ٹیسٹ جیسے غیر یقینی طریقوں پر انحصار کیا ہے جبکہ دوسری طرف عدالتوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس ملک میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور سرکاری دستاویزات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی ممکن ہے ۔یہ صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ نہ تو حکومت نہ عدلیہ اور نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس مسئلے کی اصلاح کے لیے کوئی سنجیدہ اقدام کر رہی ہیں ۔اب ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ان تمام رپورٹس اور دعووں کے پیچھے کیا اصل محرکات ہیں کیا واقعی پاکستان میں اقلیتی لڑکیوں کے ساتھ جبری شادیوں کا کوئی بڑا مسئلہ ہے یا یہ محض ایک من گھڑت کہانی ہے جسے کچھ خاص مفادات کے تحت پروان چڑھایا جا رہا ہے۔ ہماری اس تحقیق نے واضح کر دیا کہ جہاں ایک سو پانچ خاندانوں میں ایک بھی کیس جبری شادی کا نہیں ملا وہیں انسانی حقوق کی تنظیمیں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں ایسی شادیوں کا دعویٰ کر رہی ہیں یہ فرق اتنا بڑا ہے کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس تحقیق کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یا تو انسانی حقوق کی تنظیمیں جان بوجھ کر غلط معلومات پھیلا رہی ہیں یا پھر وہ انتہائی غیر سائنسی طریقہ کار استعمال کر رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ دونوں صورتوں میں یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ ان رپورٹس کی بنیاد پر پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر پابندیاں عائد کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور پاکستان کا امیج مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ اگر یہ رپورٹس جھوٹی ہیں تو پھر ان کے پیچھے کون سا ایجنڈا کارفرما ہے کیا یہ اسلامو فوبیا کا حصہ ہیں کیا یہ پاکستان کو ایک غیر محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوئی بین الاقوامی سازش ہے یا پھر یہ صرف فنڈنگ حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ حقیقت شاید ان تینوں کا مجموعہ ہے اسلامو فوبیا عالمی سطح پر ایک حقیقت ہے جس میں مسلمانوں اور ان کے ممالک کو ہر برائی کا مرکز قرار دیا جاتا ہے ۔اسی تناظر میں پاکستان کو بھی ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں اقلیتی لڑکیوں کو جبراً مسلمان بنایا جاتا ہے جبکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ اسی طرح فنڈنگ کا عنصر بھی اہم ہے بہت سی تنظیمیں انہی رپورٹس کی بدولت لاکھوں ڈالر کی فنڈنگ حاصل کرتی ہیں اور اگر یہ رپورٹس بند ہو جائیں تو ان کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا اس لیے وہ حقیقت سے قطع نظر اپنی رپورٹس جاری رکھتی ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس مسئلے کا ایک اور پہلو بھی ہے جو کبھی زیر بحث نہیں آیا وہ ہے طلاق کے حصول کے لیے مذہب تبدیل کرنے والے عیسائی افراد کی تعداد ۔عیسائیت میں طلاق حاصل کرنا بہت مشکل ہے اور بعض وکلاء بھی اپنے مؤکلوں کو طلاق کے حصول کے لیے مذہب تبدیل کرنے کا مشورہ دے دیتے ہیں اس کے بعد وہ لڑکا یا لڑکی مسلمان ہو کر آسانی سے طلاق لے سکتے ہیں یا پھر نیا نکاح کر سکتے ہیں ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے لیکن اس پر کبھی کوئی تحقیق نہیں کی گئی اس پر بھی کوئی اعداد و شمار موجود نہیں کہ پاکستان میں صوبہ وار ایسے کیسز کتنے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس موضوع پر کبھی کوئی تحقیق نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی انسانی حقوق کی تنظیم نے اسے اپنی رپورٹ کا حصہ بنایا۔ جس طرح جبری شادیوں کے حوالے سے والدین کی یک طرفہ رپورٹس کو بغیر چھان بین کے قبول کر لیا جاتا ہے اسی طرح طلاق کے لیے مذہب تبدیل کرنے والوں کے کیسز کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے کیونکہ یہ اس نریٹو میں فٹ نہیں بیٹھتا کہ صرف اقلیتی لڑکیوں کو زبردستی مسلمان بنایا جا رہا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ مذہب کی تبدیلی کا عمل دونوں طرح سے ہو سکتا ہے بعض افراد مسلمان ہوتے ہیں اور بعض مسلمان بھی عیسائی بن سکتے ہیں لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کو صرف ایک طرف کی تبدیلی میں دلچسپی ہے یہ ایک اور دوہرا معیار ہے جو ان تنظیموں کے غیر جانبدار ہونے کے دعوے کو جھٹلاتا ہے۔ اب ہم اس اہم سوال کی طرف آتے ہیں کہ اگر کوئی صحافی یا محقق اس طرح کی میریٹ پر تحقیقات کرنا چاہے تو کیا اسے کوئی فنڈنگ مل سکتی ہے اس سوال کا جواب ہے نہیں ، کوئی بھی بڑا فنڈر ہماری طرح کی میریٹ پر تحقیقات کو فنڈ نہیں کرنا چاہتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ فنڈرز کا ایجنڈا پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ریسرچ سینٹر جیسے اداروں نے پاکستان میں کم عمری اور جبری شادیوں کے خلاف کام کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر کے منصوبے فنڈ کیے ہیں ۔یہ منصوبے اس فرض پر قائم ہیں کہ جبری شادیاں ایک سنگین مسئلہ ہے اور اسے ختم

کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی محقق جائے اور ثابت کر دے کہ ان میں سے 99 فیصد شادیاں جبری نہیں بلکہ رضامندی پر مبنی ہیں اور والدین جھوٹے مقدمات درج کروا رہے ہیں تو اس سے ان کے پورے منصوبے کی بنیاد ہی تباہ ہو جائے گی ۔کوئی بھی فنڈر اپنے ہی وجود کو تباہ کرنے والی تحقیق کو فنڈ نہیں کرے گا دوسری وجہ یہ ہے کہ والدین کی یک طرفہ رپورٹس پر انحصار کرنا بہت سستا اور آسان ہے اس کے لیے آپ کو میدان میں جانے کی ضرورت نہیں آپ صرف ایک فریق کی بات مان لیتے ہیں اور پھر وہی اعداد و شمار پیش کر دیتے ہیں جو آپ کے ایجنڈے کے مطابق ہو جبکہ ہم نے جو کیا وہ بہت مہنگا اور وقت طلب تھا ۔ایک سو پانچ خاندانوں تک پہنچنا دونوں فریقین سے ملنا تعلیمی اداروں میں جا کر دوستوں سے باتیں کرنا یہ سب بہت زیادہ محنت اور وسائل طلب ہے کوئی بھی فنڈر اتنی بڑی رقم اس تحقیق پر لگانا نہیں چاہے گا جس کا نتیجہ ان کے مفاد کے خلاف ہو۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ بین الاقوامی فنڈرز نیچے سے اوپر کی تحقیقات میں دلچسپی نہیں رکھتے وہ اوپر سے نیچے کے بڑے بڑے منصوبے چاہتے ہیں۔ ایک بڑا بجٹ ایک بڑی ٹیم اور ایک بڑی رپورٹ جو ان کے ایجنڈے کے مطابق ہو ۔ہماری طرح ایک صحافی میدان میں جا کر حقائق اکٹھے کرتا ہے یہ ان کے ماڈل میں فٹ نہیں بیٹھتا ۔ چھوٹی تنظیمیں جیسے پیس فاؤنڈیشن اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی فیلوشپ کچھ حد تک آزاد تحقیق کی گنجائش رکھتی ہیں لیکن ان کے وسائل بہت محدود ہیں پیس فاؤنڈیشن نے گلوبل گیونگ پر صرف ایک ہزار ڈالر سے زائد اکٹھے کیے ہیں جبکہ ایچ آر سی پی کی فیلوشپ تقریباً پونے دو لاکھ روپے ہے جو ایک سو پانچ خاندانوں پر اس گہرائی سے تحقیق کرنے کے لیے کافی نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہماری طرح کی تحقیقات میدان میں نہیں ہو رہیں اور نہ ہی کسی فنڈر کی طرف سے اس کی حمایت کی جا رہی ہے یہ ایک بہت تلخ حقیقت ہے کہ جہاں جھوٹی رپورٹس پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں وہیں سچائی تک پہنچنے والی تحقیق کے لیے کوئی فنڈ نہیں ہے ۔فنڈز کی کمی بلکہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم اس تحقیق کو مذید آگے نہ بڑھا سکے بلکہ مناسب دفاتر اور جگہ بھی حاصل نہ کر سکے ۔ بار بار جگہ تبدیل کرنے سے بہت سے متعلقہ پیپرز بھی ضائع ہو گئے ۔آخر میں ہم اس پوری تحقیق کے مجموعی نتائج کا جائزہ لیتے ہیں اس تحقیق نے واضح کر دیا کہ فیصل آباد میں ایک سو پانچ خاندانوں میں سے ایک بھی کیس جبری شادی کا نہیں تھا تمام شادیاں رضامندی پر مبنی تھیں والدین نے جھوٹے مقدمات درج کروائے تھے۔ لڑکیوں نے عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کرنے کا بیان بھی دے دیا اور کیس ختم ہو گیا۔ مسلم اور عیسائی دونوں گھرانوں کے والدین نے ایک جیسے جھوٹے مقدمات درج کروائے فرق صرف اتنا تھا کہ عیسائی والدین نے جبری تبدیلی مذہب کا الزام بھی شامل کیا ۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے کبھی اس طرح کی کوئی جامع تحقیق نہیں کی ان کا طریقہ کار یک طرفہ اور غیر سائنسی ہے وہ صرف لڑکی کے والدین سے مل کر رپورٹ بنا دیتے ہیں وہ لڑکے کے والدین سے نہیں ملتے وہ دوستوں اور سہیلیوں سے نہیں ملتے ان کا مقصد حقیقت تک پہنچنا نہیں بلکہ فنڈنگ حاصل کرنا اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے حکومتی اعداد و شمار بھی انہی والدین کی رپورٹس پر مبنی ہیں اور ان کی کوئی حقیقی حیثیت نہیں عدلیہ بھی اسی الجھن کا شکار ہے اور بعض اوقات سرکاری دستاویزات کو بھی مسترد کر دیتی ہے یہ سب ملا کر ایک ایسا نظام بن گیا ہے جہاں جھوٹی رپورٹس کو فروغ دیا جا رہا ہے اور سچائی کو دبایا جا رہا ہے ۔جہاں تک فنڈنگ کا تعلق ہے تو کوئی بھی بڑا فنڈر میریٹ پر تحقیقات کو فنڈ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ اس سے ان کا پورا ایجنڈا خطرے میں پڑ جاتا ہے یہی وجہ ہے جس کے لئے آزاد صحافیوں کی ضرورت ہے جو میدان میں جا کر حقیقت کو ریکارڈ کریں اور اس دوہرے معیار کو بے نقاب کریں۔ اگر اس طرح کی جامع تحقیقات تمام اضلاع میں کی جائیں تو ممکن ہے کہ صرف چند اضلاع میں جبری شادیوں کے چند کیسز نکلیں اور باقی تمام رپورٹس بے بنیاد ثابت ہوں لیکن کوئی بھی ایسا کرنے کو تیار نہیں کیونکہ اس سے انسانی حقوق کی تنظیموں کا پورا نظام اور ان کی فنڈنگ خطرے میں پڑ جائے گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی حکومت خود اس معاملے میں آگے آئے اور ان تمام الزامات کی آزاد اور مکمل تحقیقات کرائے تاکہ حقیقت سے پردہ اٹھ سکے اور جھوٹے پروپیگنڈے کا خاتمہ ہو سکے ۔تب تک ہم جیسے صحافی ہی اس سچائی کو روشناس کراتے رہیں گے۔ یہ رپورٹ انہیں کوششوں کا ایک حصہ ہے اور امید ہے کہ یہ ان لوگوں تک پہنچے گی جو اس معاملے میں تبدیلی لا سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جبری شادیوں اور جبری مذہب تبدیلی کا جو بھوت بنا کر رکھا گیا ہے وہ زیادہ تر ایک فریب ہے ۔جس کے پیچھے مالی مفادات اور مخصوص ایجنڈے کارفرما ہیں اسے سمجھنے کی ضرورت ہے اور اس سے پردہ اٹھانے کی ضرورت ہے یہ رپورٹ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔