عوامی نیشنل پارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عوامی آواز سے خوفزدہ حکومت نے پرامن احتجاجی ریلی کو روک کر اپنی بوکھلاہٹ اور غیر جمہوری طرزِ عمل کا عملی ثبوت دیا ہے۔
کوئٹہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری، منشیات کے پھیلاؤ، عوامی وسائل کی لوٹ مار، پشتونوں کے معاشی قتلِ عام، ڈیورنڈ لائن پر تجارتی اور خاندانی آمدورفت کی پابندیوں، ینگ ڈاکٹرز، بلوچستان گرینڈ الائنس اور دیگر ملازمین کے جائز مطالبات کے حق میں ایک پُرامن احتجاجی ریلی کا اعلان کیا تھا، تاہم حکومت نے پولیس کے ذریعے اس جمہوری اور آئینی حق کو روکنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ عوام بدامنی، بے روزگاری، معاشی مشکلات اور عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ حکومت ان مسائل کے حل کے بجائے احتجاج کرنے والوں کا راستہ روکنے میں مصروف ہے۔ اگر عوامی نیشنل پارٹی عوامی مسائل کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے تو حکومت اس آواز سے کیوں خوفزدہ ہے؟
اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ جمہوری اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور پولیس یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم کی خواہاں نہیں۔ اسی لیے پارٹی نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے احتجاجی ریلی کو مؤخر کر کے ہنگامی پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا مؤقف عوام تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے انہیں ملازمتوں سے فارغ کیا جا رہا ہے، ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے واقعے پر حقائق سامنے لانے والوں کو دبایا جا رہا ہے جبکہ بلوچستان گرینڈ الائنس اور سرکاری ملازمین کے احتجاج کو بھی محدود کیا جا رہا ہے۔
اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ یہ طرزِ عمل کسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ عوامی آواز سے خوفزدہ حکمرانوں کا رویہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی ہر قسم کے دباؤ، جبر اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں کے باوجود اپنی سیاسی، آئینی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتی رہے گی۔
پریس کانفرنس میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی و مرکزی عہدیداران سمیت بڑی تعداد میں کارکنان بھی موجود تھے۔