ساہیوال آرٹس کونسل میں تربیتی ورکشاپ، افسران کو فنون لطیفہ کی تربیت

ساہیوال آرٹس کونسل میں پنجاب پریزن سٹاف ٹریننگ کالج کے زیر تربیت افسران کے لیے فنون لطیفہ سے متعلق ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا

ساہیوال (طیب حبیب خان بیورو چیف ساہیوال ڈویژن)

ساہیوال آرٹس کونسل میں پنجاب پریزن سٹاف ٹریننگ کالج کے زیر تربیت افسران کے لیے فنون لطیفہ سے متعلق ایک تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد سخت گیر ڈیوٹی کے حامل افسران کو فن کی لطافت کے ذریعے ذہنی آسودگی فراہم کرنا تھا۔ اس موقع پر پنجاب پریزن سٹاف ٹریننگ کالج کے کمانڈنٹ ملک شوکت فیروز اعوان نے زیر تربیت افسران سے گفتگو کرتے ہوئے ایک انتہائی اہم فکری پہلو پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جیل کی ڈیوٹی انتہائی سخت اور اعصاب شکن ہوتی ہے جس کے باعث اکثر اوقات افسران نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل دباؤ اور سخت ماحول کی وجہ سے رویوں میں تلخی اور تشدد کا رجحان پیدا ہونے لگتا ہے جو نہ صرف سروس ڈیلیوری میں رکاوٹ بنتا ہے بلکہ عوام میں بھی محکمے کا ایک منفی تاثر ابھارتا ہے۔
ملک شوکت فیروز اعوان نے مزید کہا کہ آرٹ اور فن لطیفہ کے ساتھ جڑنا محض تفریح نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے۔ آرٹ انسانی جبلت میں نرمی، ذہنی توازن اور محبت کے جذبات ابھارتا ہے۔ جب ایک افسر ذہنی طور پر پرسکون اور فن کی خوبصورتی سے آشنا ہوگا تو وہ قیدیوں اور عوام کے ساتھ بہتر طریقے سے پیش آ سکے گا جس سے محکمے کی کارکردگی اور امیج دونوں میں بہتری آئے گی۔ ڈائریکٹر آرٹس کونسل ڈاکٹر ریاض ہمدانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الادار جاتی تعلقات ساہیوال آرٹس کونسل کی اولین ترجیح ہیں اور ہم حکومت پنجاب کی ثقافتی پالیسیوں کو نچلی سطح تک پہنچانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ ورکشاپ کی خاص بات معروف ماہرین فن کی موجودگی تھی جن میں معروف خطاط عبدالمتین، منور حسین ایڈووکیٹ اور رضا شامل تھے۔ ان ماہرین نے زیر تربیت افسران کو آرٹ کی تربیت فراہم کی اور ان کے ساتھ مکالمہ کر کے فن کی باریکیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس مکالمے میں نوجوان آرٹسٹوں کی شمولیت نے افسران کی ذہنی تربیت کے عمل میں خاص مدد فراہم کی۔ افسران نے فنکاروں کے کام کو سراہا اور اسے ذہنی دباؤ سے نکلنے کا ایک بہترین ذریعہ قرار دیا۔