بلوچستان پاکستان کی شہ رگ ہے اس کو مٹی بھر دہشتگرد جدا نہیں کیا جا سکتا۔ وزیراعظم شہبازشریف
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت کوئٹہ میں نیشنل ایکشن پلان کی صوبائی ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں، انسداد دہشتگردی اقدامات، گورننس، ڈیجیٹائزیشن اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود سمیت مختلف امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، سید محسن رضا نقوی، عطا اللہ تارڑ، خالد مگسی، جام کمال خان، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کی شہ رگ ہے اور اسے مٹھی بھر دہشتگرد پاکستان سے جدا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بلوچستان اور ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف اقدامات پر چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اور پاک افواج کو خراج تحسین پیش کیا جبکہ عوامی فلاح و بہبود کیلئے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے بلوچستان کی رخشان ڈویژن میں فرنٹیئر کور تعینات کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے معدنیات کے تحفظ کیلئے ایک مؤثر سیکیورٹی راہداری قائم کی جائے گی جس میں اضافی ایف سی ونگز، شاہراہوں پر سیکیورٹی چیک پوسٹس، سرویلنس گرڈ اور سرحدی پوسٹس شامل ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل خصوصاً معدنیات سے مالامال ہے اور بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کیلئے ناگزیر ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان ضلعی انتظامیہ میں تعیناتیوں کیلئے شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنا رہی ہے جبکہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے پولیس اور دیگر فورسز کی جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ تربیت پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے جن میں تعلیمی مواقع، فنی تربیت، روزگار، اسپورٹس پروگرامز، اسکالرشپس اور ڈیجیٹل اسکلز ٹریننگ شامل ہیں۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر، تعلیم، صحت اور مواصلات کے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ نومبر 2024 سے اب تک صوبے میں پولیو کا ایک بھی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ کینسر انسٹیٹیوٹ، ڈائلیسس سینٹر، ٹراما سینٹر اور صحت کے دیگر متعدد منصوبے فعال ہو چکے ہیں جبکہ مزید منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں 99 فیصد اسکول کھلے ہیں اور تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں جبکہ شمسی توانائی منصوبے کے تحت 15 ہزار سے زائد گھروں کو فائدہ پہنچا ہے جس سے اب تک تقریباً 105 ارب روپے کی بچت رپورٹ کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی اور بدامنی کے مکمل خاتمے تک تمام ادارے سرگرم عمل رہیں گے اور بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کیلئے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے