ایکٹن یونیورسٹی امریکہ 2026 کے عالمی فورم پر پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں

سینیٹر خلیل طاہر سندھو اور شاہد رحمت نے مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، ٹیکنالوجی پر مبنی امن سازی، ڈیجیٹل ریزیلینس اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کیا۔

 

گرینڈ ریپڈز (مشی گن) / واشنگٹن ڈی سی: پاکستان کے واحد مسیحی سینیٹر خلیل طاہر سندھو اور یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن (وائی ڈی ایف) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد رحمت نے امریکہ میں منعقدہ ایکٹن یونیورسٹی 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی، جامع طرز حکمرانی، ٹیکنالوجی پر مبنی امن سازی اور پاکستان کے مثبت عالمی تشخص کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔ ایکٹن یونیورسٹی کے بعد وفد نے واشنگٹن ڈی سی میں بھی متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں جن میں مذہبی آزادی، امن، سماجی ہم آہنگی، ڈیجیٹل ریزیلینس اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے حالیہ امریکہ۔ایران کشیدگی کے دوران پاکستان کے تعمیری سفارتی کردار، مذاکرات کے فروغ، کشیدگی میں کمی، پرامن بقائے باہمی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو بھی عالمی برادری کے سامنے پیش کیا۔ ایکٹن یونیورسٹی 2026 میں دنیا کے 80 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے پالیسی ساز، ماہرین تعلیم، مذہبی رہنما، کاروباری شخصیات، سماجی کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جہاں سینیٹر خلیل طاہر سندھو اور شاہد رحمت نے پاکستان میں مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق، بین المذاہب ہم آہنگی اور سماجی شمولیت کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کو تفصیل سے بیان کیا۔ یوتھ ڈویلپمنٹ فاؤنڈیشن کے جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کو خصوصی پذیرائی حاصل ہوئی جن میں “ہارمونی چیکر” نامی مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم شامل ہے جو نصابی کتب اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز اور امتیازی مواد کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ سماجی کشیدگی کی بروقت روک تھام کے لیے مجوزہ ارلی وارننگ سسٹم اور مستند معلومات کے فروغ اور غلط معلومات کے تدارک کے لیے تیار کیا گیا “حقیقت” پلیٹ فارم بھی شرکاء کی توجہ کا مرکز رہا۔ کانفرنس کے شرکاء نے ان اقدامات کو مذہبی آزادی، سماجی ہم آہنگی، ڈیجیٹل تحفظ اور پائیدار امن کے فروغ کے لیے قابلِ عمل اور مؤثر ماڈلز قرار دیا۔ دورہ امریکہ کے دوران نیویارک، ڈیلاویئر، میری لینڈ، بالٹی مور اور واشنگٹن ڈی سی میں مقیم پاکستانی نژاد امریکی برادری نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نژاد امریکی، کاروباری شخصیات، نوجوان، مذہبی رہنما، شعراء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ان ملاقاتوں میں قومی یکجہتی، نوجوانوں کو بااختیار بنانے، اقلیتوں کی شمولیت، مذہبی ہم آہنگی اور پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد نے امریکی محکمہ خارجہ، بین الاقوامی اداروں، تھنک ٹینکس اور مختلف مذہبی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں جن میں مذہبی آزادی، امن سازی، ڈیجیٹل ریزیلینس، سماجی ترقی اور عالمی شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو ہوئی۔ سینیٹر خلیل طاہر سندھو اور شاہد رحمت نے پاکستانی نژاد امریکی برادری، میزبان اداروں اور شراکت دار تنظیموں کی گرمجوش میزبانی پر دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، انسانی وقار، مذہبی آزادی، بین المذاہب ہم آہنگی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ دنیا میں پاکستان کا مثبت، معتدل اور تعمیری تشخص مزید مستحکم ہو۔