امریکہ کی ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی: ایک ایسی جوئے بازی جو پوری دنیا کو تباہ کر سکتی ہے
میاں افتخار احمد
یہ 13 اپریل 2026 کی صبح تھی جب پوری دنیا نے دیکھا کہ خلیج فارس کے پانیوں میں امریکی بحری جنگی جہازوں نے ایران کی تمام بندرگاہوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں تھا، بلکہ ایک حقیقت تھی جس نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود آگ میں مزید ایندھن ڈال دیا۔ امریکہ نے باضابطہ طور پر ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا اعلان کر دیا، اور اس کے ساتھ ہی ایک نیا، انتہائی خطرناک باب شروع ہو گیا۔ سینٹرل کمانڈ سینٹ کام کے مطابق یہ ناکہ بندی 13 اپریل 2026 کو صبح 10 بجے مشرقی وقت شام 5 بجے پاکستان کے مطابق سے نافذ العمل ہو گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن واقعی اس خطرے کے ممکنہ نتائج کو سمجھتا ہے؟ یا یہ ایک بار پھر اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ طاقت کے زور پر ہر مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب آنے والے دنوں میں پوری دنیا تلاش کرے گی۔یہ ناکہ بندی صرف ایران اور امریکہ کے درمیان ایک اور جھڑپ نہیں ہے۔ یہ عالمی معیشت کی شہ رگ پر وار کرنے کے مترادف ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں یہ ناکہ بندی نافذ کی گئی ہے، دنیا کی تقریباً بیس فیصد خام تیل کی سپلائی کا راستہ ہے۔ تقریباً 20 ملین بیرل تیل روزانہ اس آبنائے سے گزرتا ہے، جو عالمی کھپت کا 20 فیصد سے زائد ہے۔ قدرتی گیس کی عالمی تجارت کا ایک تہائی حصہ بھی اسی راستے سے گزرتا ہے۔ جب امریکی جنگی جہازوں نے اس راستے کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا، تو تیل کی قیمتیں پہلے ہی سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی تھیں۔ جنگ بندی کے بعد گرنے والی قیمتیں دوبارہ آٹھ فیصد بڑھ گئیں، اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ اور برینٹ دونوں ایک سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئے۔ ماہرین اقتصادیات خبردار کر چکے ہیں کہ اگر یہ صورتحال جاری رہی، تو قیمتیں ڈیڑھ سو ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں، اور اگر حوثی باب المندب بھی بند کر دیں تو قیمتیں دو سو ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پٹرول، ڈیزل، اور اس کے ساتھ ساتھ ہر وہ چیز مہنگی ہو جائے گی جو ٹرک، جہاز یا ٹرین کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔ خوراک سے لے کر ادویات تک، ہر چیز کی قیمتیں آسمان کو چھو لیں گی۔ یہ صرف ایک اقتصادی بحران نہیں بلکہ ایک انسانی بحران ہوگا۔لیکن یہ صرف تیل کی بات نہیں ہے۔ اس ناکہ بندی کی وجہ سے اب تک تقریباً 3200 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں پھنس چکے ہیں۔ جنگ سے پہلے روزانہ 100 سے 135 جہاز گزرتے تھے۔ یہ جہاز نہ صرف تیل بلکہ گیس، کیمیکلز، کھادیں، اناج اور دیگر ضروری اشیا لے جا رہے تھے۔ عالمی فوڈ پروگرام کی دستیاب تازہ ترین رپورٹس کے مطابق، ان جہازوں میں سے سینکڑوں میں گندم اور دیگر خوراک کی اشیا تھیں جو مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے لیے تھیں۔ جب یہ جہاز اپنی منزلوں تک نہیں پہنچ پائیں گے تو دنیا بھر کی فیکٹریاں بند ہو جائیں گی، بجلی کی قلت پیدا ہو جائے گی، اور ترقی پذیر ممالک میں خوراک کا بحران شدید ہو جائے گا۔ انشورنس کمپنیوں نے پہلے ہی اس خطے میں آنے والے جہازوں کے پریمیم میں 400 فیصد اضافہ کر دیا ہے، اور بہت سے جہاز مالکان اب یہ راستہ اختیار کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔
سابق امریکی محکمہ خزانہ کے اہلکار اور پابندیوں کے ماہر میعاد مالکی کی حالیہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق، اس ناکہ بندی سے ایران کو روزانہ براہ راست 435 ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ اس میں تقریباً 276 ملین ڈالر کی برآمدات کا نقصان اور 159 ملین ڈالر کی درآمدات میں خلل شامل ہے، جو ماہانہ 13 بلین ڈالر بنتا ہے۔ ایران کی 90 فیصد سے زائد تجارت خلیج فارس سے گزرتی ہے، اور تیل اور گیس حکومتی آمدنی کا 80 فیصد اور جی ڈی پی کا 23.7 فیصد بنتے ہیں۔ خارگ جزیرہ اکیلے سالانہ 53 بلین ڈالر کماتا ہے، اور ایران کی 92 فیصد تیل برآمدات اسی جزیرے سے گزرتی ہیں۔ ایران روزانہ تقریباً 1.5 ملین بیرل تیل برآمد کرتا ہے، جس سے روزانہ 139 ملین ڈالر کی آمدنی ہوتی ہے۔ ناکہ بندی کی صورت میں یہ پوری آمدنی فوری طور پر بند ہو جائے گی۔پٹرو کیمیکل کی برآمدات بھی شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ 2024-25 کے پہلے نو مہینوں میں ایران نے 19.7 بلین ڈالر مالیت کے پٹرو کیمیکل برآمد کیے، یعنی روزانہ 54 ملین ڈالر۔ یہ برآمدات اسالوئے، امام خمینی پورٹ اور شاہد رجائی پورٹ جیسی بندرگاہوں سے ہوتی ہیں، یہ سب ناکہ بندی کے علاقے میں واقع ہیں۔ غیر تیل تجارت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔ 2025 میں ایران کی غیر تیل تجارت 51.7 بلین ڈالر تھی، جس میں روزانہ 88 ملین ڈالر کی برآمدات خلیج سے گزرتی تھیں۔ ان میں سے 90 فیصد، یعنی روزانہ 79 ملین ڈالر، متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایران کی اہم بندرگاہیں براہ راست نشانے پر ہیں۔ شاہد رجائی پورٹ ایران کے 53 فیصد کارگو کو ہینڈل کرتی ہے، جبکہ امام خمینی پورٹ 58 فیصد ضروری اشیا کی درآمدات کا ذمہ دار ہے۔ بوشہر کی بندرگاہوں نے گزشتہ سال 57 ملین ٹن کارگو پروسیس کیا۔ یہ تمام بندرگاہیں خلیج میں واقع ہیں اور براہ راست ناکہ بندی کی زد میں آئیں گی۔ ایران کے متبادل تجارتی راستے بہت محدود ہیں۔ جاسک پورٹ کی صلاحیت روزانہ 1 ملین بیرل ہے، لیکن فی الحال صرف 70,000 بیرل وہاں سے گزر رہے ہیں۔ چابہار اور بحیرہ کیسپین کی بندرگاہیں مل کر کل تجارتی صلاحیت کا صرف 10 فیصد فراہم کرتی ہیں۔
تیل کا ذخیرہ ایک اور بڑا مسئلہ ہے۔ ایران کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 50 سے 55 ملین بیرل ہے، جس کا 60 فیصد پہلے سے بھرا ہوا ہے۔ بچی ہوئی 20 ملین بیرل کی گنجائش صرف 13 دنوں میں ختم ہو جائے گی اگر برآمدات بند ہو جائیں، جس سے تیل کے کنوؤں کو بند کرنا پڑ سکتا ہے۔ مالکی نے خبردار کیا ہے کہ پرانے کنوؤں کو بند کرنے سے واٹر کوننگ کا عمل شروع ہو سکتا ہے جو تیل کو مستقل طور پر زمین میں پھنسا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روزانہ 300,000 سے 500,000 بیرل کی طویل مدتی پیداواری نقصان ہو سکتا ہے، جو سالانہ 9 سے 15 بلین ڈالر کے برابر ہے۔ایرانی کرنسی ریال پہلے ہی 42,000 فی ڈالر سے گر کر 1.5 ملین فی ڈالر پر آ چکی ہے۔ بینکوں نے روزانہ نکالنے کی حدیں لگا دی ہیں، جبکہ مہنگائی 47.5 فیصد کے قریب ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی مکمل طور پر بند ہونے سے معیشت ہائپر انفلیشن کی طرف بڑھ سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ایران اس ناکہ بندی پر کیا ردعمل دے گا؟ ایران نے اسے قزاقی کی مجرمانہ کارروائی قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی بندرگاہیں غیر محفوظ ہوئیں تو خلیج فارس اور بحیرہ عرب کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر وہ لڑیں گے تو ہم لڑیں گے، اور اگر وہ منطق کے ساتھ آئیں گے تو ہم منطق کے ساتھ جواب دیں گے۔ یہ کوئی خالی دھمکی نہیں ہے۔اگرچہ امریکہ نے جنگ کے پہلے چار دنوں میں 46 ایرانی جنگی جہازوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، اور 16 بارودی سرنگ بچھانے والے جہاز بھی تباہ کیے گئے، لیکن ایران کے پاس اب بھی بہت سے ہتھیار ہیں جو اس خطرے کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ اینالیسز کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، اسلامی انقلابی گارڈ کور نیوی آئی آر جی سی این نے 1985 میں ایک نیم فوجی بحری فورس کے طور پر کام شروع کیا تھا تاکہ روایتی ایرانی بحریہ کی صلاحیتوں کو بڑھایا جا سکے اور غیر متناسب جنگ لڑی جا سکے۔آئی آر جی سی این کے پاس 20,000 سے زائد اہلکار ہیں، اور اس کے بیڑے میں ہزاروں تیز رفتار کشتیاں شامل ہیں جو مختصر فاصلے کی اینٹی شپ میزائلوں سے لیس ہیں۔ حالیہ برسوں میں، آئی آر جی سی این نے ڈرونز، انڈرواٹر گاڑیاں اور ان مینڈ سطحی گاڑیاں بھی شامل کر لی ہیں۔ یہ مچھر بیڑا، جس میں 1,500 سے زائد چھوٹی جنگی کشتیاں شامل ہیں، 50 سے 110 ناٹ کی رفتار سے سفر کر سکتی ہیں اور دشمن کے جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے ہجوم کی حکمت عملی اپناتی ہیں۔ تنگ آبنائے ہرمز میں، جو صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہے اور جہاں بحری راستے صرف 3 کلومیٹر ہیں، یہ چھوٹی کشتیاں بڑے امریکی جنگی جہازوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہیں۔اس کے علاوہ، ایران کے پاس ساحلی بیٹریوں کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے جو اینٹی شپ بیلسٹک میزائل اور اینٹی شپ کروز میزائل داغ سکتا ہے۔ غدر میزائل کی رینج 200 سے 300 کلومیٹر ہے، جبکہ ابو مہدی میزائل 1,000 کلومیٹر سے زائد فاصلے تک مار کر سکتا ہے، جو قطر اور بحرین میں امریکی تنصیبات کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ ایران کے پاس زیرِ آب ڈرونز بھی ہیں جو 600 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں۔جنگ کے آغاز کے بعد سے، ایران نے آبنائے ہرمز کے آس پاس کے علاقوں میں کم از کم 13 تجارتی جہازوں پر حملے کیے ہیں۔ 12 مارچ 2026 کو، چھ تجارتی جہازوں پر دھماکہ خیز مواد سے لدی کشتیوں یا سمندری بارودی سرنگوں سے حملہ کیا گیا۔
اس ناکہ بندی کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے خطے میں پھیل سکتا ہے۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کی سینئر تجزیہ کار احمد ناگی نے پچھلے ہفتے جاری کردہ ایک تجزیے میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران دباؤ محسوس کرے گا تو حوثی باغی جوابی کارروائی کرتے ہوئے باب المندب کو بند کر سکتے ہیں۔ حوثیوں کے انفارمیشن کے ڈپٹی وزیر محمد منصور نے 2 اپریل کو کہا تھا کہ اگر ایران اور لبنان کے خلاف کشیدگی بڑھی تو وہ باب المندب بند کرنے پر غور کر رہے ہیں۔باب المندب کا بند ہونے کا مطلب ہے کہ بحیرہ احمر کے راستے جانے والی تمام تر تجارت، جس میں سویز کینال بھی شامل ہے، مفلوج ہو جائے گی۔ یہ بحران اس وقت عالمی سطح پر پھیل جائے گا جب دو بڑی آبی گزرگاہیں بیک وقت بند ہو جائیں گی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس صورت میں تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہیں۔یاد رہے کہ حوثی اکتوبر 2023 سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر مسلسل حملے کر رہے ہیں، اور امریکی زیر قیادت آپریشن پراسپیرٹی گارڈین کے 17 ماہ طویل فضائی مہم کے باوجود، حوثی اپنی زیرِ زمین سرنگوں کے نیٹ ورک کے ذریعے اپنی مار کرنے کی صلاحیتوں کو چھپانے، منتقل کرنے اور دوبارہ بھرنے میں کامیاب رہے ہیں۔
اس ناکہ بندی کا سب سے اہم اور المناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ کے اپنے اتحادی بھی اس سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ برطانیہ کے وزیراعظم کیر سٹارمر نے کل رات بی بی سی ریڈیو انٹرویو میں واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ اس ناکہ بندی کا حصہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اس جنگ میں گھسیٹا جائے گا۔ فرانس اور برطانیہ نے مل کر ایک پرامن کثیر القومی مشن کی تجویز دی ہے جو صرف دفاعی نوعیت کا ہوگا، یعنی وہ اپنے جہازوں کی حفاظت کریں گے، لیکن ناکہ بندی میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسپین کی دفاعی وزین مارگاریتا روبلیس نے کہا کہ یہ ناکہ بندی کوئی معنی نہیں رکھتی اور یہ اس پوری منحوس صورت حال کا ایک اور واقعہ ہے جس میں ہمیں گھسیٹا جا رہا ہے۔ یہ امریکہ کے لیے ایک بہت بڑی سفارتی شکست ہے جب اس کے روایتی اتحادی اسے تنہا چھوڑ رہے ہیں۔چین اور روس کا موقف اس صورتحال میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ چین نے اس ناکہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اشیا اور توانائی کی ایک اہم بین الاقوامی تجارتی شاہراہ ہے اور اس کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ چین نے فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ دوبارہ شروع نہ کریں۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اس وقت بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب سے ملاقات کر رہے ہیں۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ وہ اس صورتحال پر بات چیت کر رہے ہیں۔ روس نے ایران کے افزودہ یورینیم کو محفوظ رکھنے کی پیشکش بھی کی ہے، لیکن ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔اسرائیل نے بھی ہائی الرٹ پر جانے کا اعلان کر دیا ہے، اور ایران کے خلاف فوجی کارروائی یا جوابی حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔
یہ ناکہ بندی اسلام آباد میں ایران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کی گئی ہے۔ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر کر رہے تھے۔ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے۔ وینس نے بتایا کہ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ ایران اپنی جوہری خواہشات ترک کرنے پر راضی نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو ایک مثبت عہد کی ضرورت ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں چاہتے۔ایرانی قانون ساز محمود نبویان نے انکشاف کیا کہ امریکہ نے تین بڑے مطالبات کیے تھے: آبنائے ہرمز کی مشترکہ کنٹرول اور آمدنی میں شراکت، 60 فیصد افزودہ یورینیم کی برآمد، اور 20 سال کے لیے ایران کی یورینیم افزودگی کی سرگرمیوں پر پابندی۔ ایرانی وفد نے ان مطالبات کو مسترد کر دیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ تہران ایک معاہدے سے انچ بھر دور تھا، لیکن انہیں انتہا پسندی، بدلتے ہوئے اہداف اور ناکہ بندی کا سامنا کرنا پڑا۔
مختلف تھنک ٹینکس نے اس ناکہ بندی کے ممکنہ نتائج پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔ سوفان سینٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کا مقصد ایران کی برآمدی آمدنی کو روکنا اور چین جیسے بڑے خریداروں پر دباؤ ڈالنا ہے۔ تاہم، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ حکمت عملی الٹی پڑ سکتی ہے اور چین کو روس کے ساتھ مل کر امریکہ کے خلاف متحد کر سکتی ہے۔سائنسز پو کی پروفیسر نکول گریجیوسکی نے حال ہی میں فرانسیسی اخبار لو فیگارو میں شائع شدہ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ ناکہ بندی کوئی معمولی جبری اشارہ نہیں ہے، بلکہ جنگ کا مؤثر اعلان ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس کے نتیجے میں پورا مشرق وسطیٰ آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔روسی فوجی تجزیہ کار الیگزینڈر سٹیپانوف نے ٹاس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ناکہ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پہلا امریکی جنگی جہاز تباہ نہیں ہو جاتا۔ یہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ناکہ بندی بیان کردہ اہداف کے مقابلے میں غیر متناسب خطرات رکھتی ہے۔عرب نیوز میں شائع شدہ ایک تجزیے میں کہا گیا کہ خلیجی ممالک اس ناکہ بندی سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ایران کے جوابی حملوں کی پہلی زد میں وہ ہوں گے۔ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے خفیہ طور پر ایران تک یہ پیغام پہنچایا ہے کہ وہ امریکی ناکہ بندی میں کسی بھی طرح تعاون نہیں کرے گا۔
یہ ایک ایسی جوئے بازی جس میں سب ہاریں گے۔اس پوری صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ناکہ بندی اپنے مقصد میں کامیاب ہو سکتی ہے؟ کیا ایران ہتھیار ڈال دے گا؟ کیا وہ اپنی جوہری خواہشات ترک کر دے گا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ نہیں۔ پابندیوں کے باوجود، ایران نے اپنی جوہری پروگرام کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ناکہ بندی صرف ایران کو مزید سخت گیر بنائے گی، اسے چین اور روس کی طرف دھکیلے گی، اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے مزید بے تاب کر دے گی۔ یہ وہی غلطی ہے جو امریکہ نے عراق اور افغانستان میں کی تھی: طاقت کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسی کوششیں ہمیشہ ناکام ہوتی ہیں اور اس کے نتیجے میں صرف تباہی اور عدم استحکام بڑھتا ہے۔ان سب خطرات کے باوجود، امریکہ نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ کیوں؟ کیا یہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایران کے خلاف ذاتی دشمنی ہے؟ کیا یہ اسرائیل کا دباؤ ہے؟ یا کیا یہ امریکہ کی اپنی عالمی بالادستی کو ثابت کرنے کی مایوس کن کوشش ہے؟ شاید یہ سب کچھ ہے۔ لیکن جو بھی وجہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ یہ ناکہ بندی ایک ایسی جوئے بازی ہے جس میں امریکہ نے اپنی اور پوری دنیا کی معیشت کو داؤ پر لگا دیا ہے۔اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں، خاص طور پر چین اور روس، اس بحران کو روکنے کے لیے آگے آئیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج شام کو بلایا گیا ہے۔ اگر وہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کریں اور دونوں کو باور کرائیں کہ جنگ کا کوئی فاتح نہیں ہوگا، تو شاید اس بحران کو ٹالا جا سکے۔ لیکن اگر یہ ناکہ بندی جاری رہی اور ایران نے جوابی کارروائی کی، تو ہم ایک ایسے تنازع کے دہانے پر کھڑے ہو جائیں گے جس کے نتائج کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔آخر میں، ایک بات واضح ہے: یہ ناکہ بندی محض ایک فوجی کارروائی نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی نظام میں ایک گہرے بحران کی علامت ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ جب ایک طاقت خود کو بین الاقوامی قوانین سے بالا سمجھنے لگتی ہے، تو پوری دنیا کو اس کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ہم صرف یہ دعا کر سکتے ہیں کہ عقل و دانش اس جنون پر غالب آ جائے، ورنہ آنے والی نسلیں اس فیصلے کو تاریخ کے تاریک ترین فیصلوں میں شمار کریں گی۔