ایران–امریکہ بیک چینل مذاکرات، جزوی پیش رفت، بڑے اختلافات برقرار.
کشیدگی میں کمی اور قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق
میاں افتخار احمد
اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے بیک چینل مذاکرات میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور براہ راست تصادم سے گریز پر اصولی اتفاق سامنے آیا ہے جبکہ انسانی بنیادوں پر قیدیوں کے تبادلے کے معاملے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا اور بالخصوص ایران–اسرائیل کشیدگی کو محدود رکھنے کی اہمیت کو تسلیم کیا ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بعض شعبوں خصوصاً ادویات اور انسانی ہمدردی کے معاملات میں محدود اقتصادی ریلیف دینے کا عندیہ بھی دیا ہے جسے اعتماد سازی کی ایک ابتدائی کوشش قرار دیا جا رہا ہے اس تمام عمل میں پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقوں کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مذاکرات کے باوجود کئی اہم نکات پر اختلافات برقرار ہیں جن میں سب سے بڑا مسئلہ ایران کے جوہری پروگرام کا ہے ایران اسے پرامن قرار دیتے ہوئے جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ امریکہ یورینیم افزودگی محدود کرنے اور سخت نگرانی کا مطالبہ کر رہا ہے اسی طرح اقتصادی پابندیوں کے معاملے پر بھی دونوں کے مؤقف میں واضح فرق پایا جاتا ہے ایران فوری اور مکمل خاتمے کا خواہاں ہے جبکہ امریکہ مرحلہ وار نرمی پر زور دیتا ہے اسرائیل سے متعلق سیکیورٹی معاملات اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ پر بھی اختلافات موجود ہیں خاص طور پر عراق اور شام میں پراکسی سرگرمیوں کے حوالے سے دونوں ممالک کے مؤقف میں تضاد برقرار ہے تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے جسے مستقبل میں کسی ممکنہ پیش رفت کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے