اقلیتی بچیوں کے حقوق: فیصل آباد میں پرامن واک، جبری شادیوں کے خلاف آواز

فیصل آباد میں اقلیتی بچیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرامن واک

“جسٹس فار مینارٹی گرلز” کے تحت جبری شادیوں اور تبدیلی مذہب کے خلاف آواز بلند

میاں افتخار احمد

فیصل آباد: بشپ اندریاس رحمت کی رہنمائی میں کیتھولک ڈایوسیس آف فیصل آباد کے زیر اہتمام “جسٹس فار مینارٹی گرلز” کے عنوان سے ایک پرامن احتجاجی واک کا انعقاد کیا گیا جس کا مقصد کم عمر بچیوں کی جبری شادیوں، اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور کمسن لڑکیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف آواز بلند کرنا تھا، واک کا مرکزی پیغام تھا “کم عمر بچی بیوی نہیں، مذہب زبردستی نہیں بدلوایا جا سکتا” جس میں اقلیتی بچوں کے وقار، آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ پر زور دیا گیا
واک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی شرکت
اس واک میں پریسٹ حضرات، اساتذہ، نوعمر طالبات، نوجوان رہنما، خواتین نمائندگان، سماجی کارکنان اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی، شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کمسن بچیوں کے تحفظ، بچوں کے حقوق سے متعلق قوانین پر موثر عملدرآمد اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے مطالبات درج تھے
حکومت اور اداروں سے فوری اقدامات کا مطالبہ
شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بشپ اندریاس رحمت نے کہا کہ کم عمر بچیاں معاشرے کا نہایت کمزور اور حساس طبقہ ہیں جن کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے، انہوں نے کہا کہ کمسن بچیوں کی جبری شادی اور جبری تبدیلی مذہب انسانی وقار، بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی سنگین خلاف ورزی ہے، دبا، خوف یا دھمکی کے تحت حاصل کی گئی رضامندی کو قانونی اور اخلاقی طور پر درست نہیں سمجھا جا سکتا، انہوں نے حکومت، عدلیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں، متاثرہ بچیوں کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چائلڈ پروٹیکشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد، شفاف تحقیقات اور ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور مذہبی آزادی کے حق کی فراہمی یقینی بنائی جائے جبکہ والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور کمیونٹی سے آگاہی پیدا کرنے اور اقلیتی بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے مشترکہ کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی گئی